لاہور کے کسی بھی بڑے دفتر میں داخل ہوں — آئی ٹی کمپنی، بینک یا سرکاری ادارہ — تو آپ کو ایک ہی منظر نظر آئے گا: مرد کمپیوٹر اسکرین کے سامنے جھکے، کرسی پر گھنٹوں بیٹھے ہوئے۔ یہ آج کی دفتری زندگی کا معمول ہے، اور اس معمول کے جسمانی نتائج آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں۔

پہلے دو گھنٹے: جسم خاموشی سے بدلتا ہے

بیٹھنے کے بعد پہلے ایک سے دو گھنٹوں میں جسم کئی تبدیلیوں سے گزرتا ہے۔ پیٹ کے پٹھے سست پڑ جاتے ہیں، ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بڑھتا ہے، اور ٹانگوں میں خون کی روانی کم ہو جاتی ہے۔ یہ تبدیلیاں محسوس نہیں ہوتیں کیونکہ کام میں دھیان ہوتا ہے۔

مگر جسم کا نظام اندر سے اپنا حساب رکھتا ہے۔ جب آپ گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں تو کولہوں کے نزدیک کے پٹھے (ہپ فلیکسرز) تنگ ہونے لگتے ہیں، اور کمر کے نچلے حصے میں درد کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔

چار سے چھ گھنٹے: کمر اور گردن

زیادہ تر دفتری مرد کمر درد کی شکایت کرتے ہیں مگر اسے "معمول" سمجھتے ہیں۔ اسلام آباد کے ایک سروے میں — جو ایک نجی تحقیقی ادارے نے کی — دفتری ملازمین کی بڑی اکثریت نے بتایا کہ انہیں ہفتے میں کم از کم دو سے تین دن کمر یا گردن میں تکلیف ہوتی ہے۔

اسکرین کی طرف جھک کر بیٹھنا گردن پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ سیدھی نشست سے ہٹ کر پندرہ درجے آگے جھکنے سر کا وزن دوگنا ہو جاتا ہے۔ تیس درجے جھکاؤ پر یہ وزن چار گنا تک محسوس ہوتا ہے — جو گردن کے پٹھوں کے لیے مستقل محنت کا کام ہے۔

ایک سادہ اصول: ۳۰-۳۰

ہر تیس منٹ بیٹھنے کے بعد کم از کم تیس سیکنڈ کھڑے ہو کر تھوڑا چلیں یا کھینچاؤ کریں۔ یہ عادت کمر اور گردن پر جمع ہونے والے دباؤ کو باقاعدگی سے کم کرتی ہے۔

آٹھ گھنٹے مکمل: تھکاوٹ کی اصل وجہ

دن کے آخر میں جو "بہت تھکا ہوا" محسوس ہوتا ہے، وہ اکثر جسمانی محنت سے نہیں، بلکہ مسلسل ایک ہی حالت میں رہنے سے آتی ہے۔ جسم کو حرکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب وہ گھنٹوں ساکت رہے تو خون کی روانی سست پڑتی ہے، دماغ کو کم آکسیجن ملتی ہے، اور تھکاوٹ کا احساس بڑھتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بالغ افراد کو ہفتے میں کم از کم ڈیڑھ سو منٹ معتدل جسمانی سرگرمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دفتری ملازمت میں یہ ہدف خودبخود پورا نہیں ہوتا۔

کیا کیا جا سکتا ہے؟

  • لفٹ کی بجائے سیڑھیاں استعمال کریں
  • فون پر بات کرتے وقت کھڑے ہو جائیں
  • لنچ کے بعد دس منٹ باہر چلیں
  • میز کی اونچائی ایسی رکھیں کہ کہنیاں ۹۰ درجے پر ہوں
  • اسکرین آنکھوں کی سطح پر ہو، نیچے نہیں

پانی اور کافی: اثرات کا موازنہ

دفتر میں چائے اور کافی کے بغیر کام نہ ہونے والی بات لگتی ہے۔ لیکن ان مشروبات کا زیادہ استعمال جسم میں پانی کی کمی کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ یہ پیشاب آور ہیں۔ پانی کی کمی خود تھکاوٹ اور توجہ میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

ایک آسان طریقہ: ہر ایک کپ چائے یا کافی کے ساتھ ایک گلاس پانی بھی لیں۔ یہ ایک ایسا توازن ہے جو جسم کو فائدہ دیتا ہے۔

شام کا وقت: جسم کا حساب

شام کو گھر آنے کے بعد بھی اکثر مرد فوری سوفے پر بیٹھ جاتے ہیں، موبائل اٹھا لیتے ہیں۔ یعنی دن بھر بیٹھنے کے بعد شام بھی بیٹھے گزرتی ہے۔ اس عادت کو کچھ حد تک بدلنا — جیسے کھانے کے بعد ٹہلنا یا بچوں کے ساتھ کھیلنا — جسم کو روزانہ کی ضروری حرکت دے سکتا ہے۔

بیٹھ کر کام کرنا ناگزیر ہو سکتا ہے، لیکن اس کے اثرات کو نظرانداز کرنا ہمیشہ ایک انتخاب ہے۔

مزید پڑھیں: چالیس کے بعد تھکاوٹ کیوں بڑھتی ہے اور مردوں میں نیند کا معیار۔